← فیلڈ کیئر ہوم پیج

بچے کھانا کیوں نہیں کھاتے؟ — کھانا کھلانے کی عادت میں چھپا اصل مسئلہ

✍️ FieldCare — Community Health Inspector کے تجربے پر مبنی · آخری اپڈیٹ: اگست 2026

اکثر والدین کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ "ہمارا بچہ کچھ کھاتا ہی نہیں۔" لیکن کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ واقعی بچہ کھانا نہیں کھاتا یا ہم نے اسے صحیح طریقے سے کھانے کی عادت ہی نہیں ڈالی؟ بچوں کو شروع سے مختلف قسم کی غذائیں کھانے کی عادت ڈالنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم بچے کو گھر کا سادہ اور صحت بخش کھانا دینے کے بجائے ہر وقت باہر کی چیزیں، snacks یا اپنی مرضی کی پسندیدہ چیزیں دیتے رہیں تو آہستہ آہستہ بچے کی healthy foods میں دلچسپی کم ہو سکتی ہے۔

بچوں کو گھر کا بنا ہوا کھانا کھلانے کی کوشش کریں

بچوں کے لیے گھر میں تیار کیا ہوا تازہ کھانا ایک اچھا انتخاب ہے۔ کوشش کریں کہ بچے کو خاندان کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کی عادت ہو۔ ہمارے گھروں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر بچہ سبزی یا دال نہیں کھا رہا تو ہم فوراً اس کے لیے کوئی دوسری پسند کی چیز بنا دیتے ہیں — پیزا، برگر یا کچھ اور۔ کبھی کبھار ایسی چیزیں کھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر بچے کی روزمرہ خوراک ہی انہی چیزوں کے گرد گھومنے لگے تو اس کی خوراک میں مختلف اور غذائیت سے بھرپور foods کی جگہ کم ہو سکتی ہے۔

پیزا اور برگر گھر میں بنا ہو تو بھی روزانہ کی غذا نہیں

بعض والدین کہتے ہیں کہ ہم تو بچے کو باہر کا پیزا یا برگر نہیں کھلاتے، گھر میں بنا کر دیتے ہیں۔ گھر میں بنانا یقیناً صفائی اور ingredients کے لحاظ سے بہتر ہو سکتا ہے، لیکن پیزا، برگر، فرائز اور اس طرح کی چیزوں کو پھر بھی روزمرہ کی بنیادی غذا نہیں بنانا چاہیے۔ بچوں کو ان چیزوں کے ساتھ ساتھ دالیں، سبزیاں، پھل، انڈہ، دہی، دودھ اور دوسری غذائیت والی غذائیں بھی باقاعدگی سے دینی چاہئیں۔

بچوں کو سبزیوں اور پھلوں سے دور نہ کریں

بچوں کو سبزیاں اور پھل شروع سے مختلف طریقوں سے پیش کرنے کی کوشش کریں۔ اگر بچہ پہلی مرتبہ کوئی سبزی نہیں کھاتا تو یہ ضروری نہیں کہ وہ اسے ہمیشہ ناپسند کرے گا — بعض بچوں کو کسی نئی غذا کا ذائقہ یا texture قبول کرنے میں وقت لگتا ہے۔ اس لیے ایک دفعہ بچے کے انکار پر اس چیز کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنے کے بجائے کچھ عرصے بعد دوبارہ مناسب انداز میں offer کیا جا سکتا ہے — مثلاً سبزی کو کبھی چاول کے ساتھ، کبھی دال میں یا کسی دوسری پسندیدہ غذا کے ساتھ شامل کر کے۔

بہت زیادہ دودھ بھی بچے کی خوراک کو متاثر کر سکتا ہے

چھوٹے بچوں میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ دن بھر دودھ ہی پیتے رہتے ہیں اور پھر ٹھوس غذا میں دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔ بچے کی عمر کے مطابق مناسب دودھ کے ساتھ اسے دوسری غذائیں بھی دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر اگر بچہ کھانا بہت کم کھاتا ہے، کمزور لگتا ہے یا اس کی خوراک بہت محدود ہے تو والدین کو اس معاملے پر ڈاکٹر یا ماہرِ صحت سے مشورہ کرنا چاہیے۔

بچوں میں آئرن کی کمی پر بھی توجہ دیں

بچوں میں آئرن کی کمی ایک اہم مسئلہ ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب ان کی خوراک بہت محدود ہو اور وہ مختلف غذائیں نہ کھاتے ہوں۔ اس لیے بچے کی خوراک میں عمر کے مطابق آئرن والی غذائیں شامل کرنا ضروری ہے — گوشت، انڈہ، دالیں، چنے، لوبیا اور دوسری مناسب غذائیں۔ اگر بچے میں آئرن کی کمی کا شبہ ہو تو صرف اپنی طرف سے آئرن کی دوا شروع کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے مشورہ اور ضرورت کے مطابق ٹیسٹ کروانا بہتر ہے۔

بچوں کو کھانے کے لیے وقت دیں

آج کل بہت سے والدین اپنی مصروفیات میں بچوں کو کھانا کھلانے کے لیے مناسب وقت نہیں دے پاتے، خاص طور پر working parents کے لیے یہ ایک عام مسئلہ ہو سکتا ہے۔ لیکن کوشش کریں کہ دن میں کم از کم کچھ meals بچے کے ساتھ بیٹھ کر کھائے جائیں۔ بچے صرف کھانا نہیں سیکھتے بلکہ دوسروں کو دیکھ کر کھانے کی عادت بھی سیکھتے ہیں — اگر گھر کے بڑے خود سبزیاں، پھل اور گھر کا کھانا کھائیں گے تو بچے کے لیے بھی انہیں قبول کرنا آسان ہوگا۔

کھانے کے وقت موبائل اور ٹی وی سے بچائیں

بچے کو کھانا کھلانے کے لیے ہر بار موبائل یا ٹی وی دینا آسان لگتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ بچے کو اس کی عادت پڑ سکتی ہے۔ کوشش کریں کہ کھانے کے وقت بچے کی توجہ کھانے اور خاندان کے ساتھ بیٹھنے پر ہو۔ بچے کو زبردستی کھلانے کے بجائے پرسکون ماحول میں کھانا offer کریں۔

صفائی ستھرائی بھی بچوں کی صحت کا حصہ ہے

بچوں کو صرف اچھی غذا دینا کافی نہیں، انہیں صفائی کی عادتیں سکھانا بھی بہت ضروری ہے — کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، واش روم استعمال کرنے کے بعد ہاتھ صاف کرنا، پھل اور سبزیاں دھو کر کھانا، صاف پانی پینا، گندگی میں کھیلنے کے بعد ہاتھ اور جسم صاف کرنا، کھانا ڈھک کر رکھنا اور اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھنا۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں بچوں کو مختلف انفیکشنز اور بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتی ہیں۔

بچے کو صحت مند کھانے کی عادت کیسے ڈالیں؟

بچے کو صرف یہ کہنے سے کہ "سبزی کھاؤ، یہ صحت کے لیے اچھی ہے" ہمیشہ بات نہیں بنتی — ہمیں اپنے عمل سے بھی مثال دینی ہوتی ہے۔ گھر میں مختلف قسم کے صحت بخش کھانے بنائیں، بچے کو چھوٹی مقدار میں offer کریں، اسے خود کھانے کی کوشش کرنے دیں اور ہر بار انکار کرنے پر فوراً اس کی پسند کی غیر صحت بخش چیز نہ بنائیں۔ اور سب سے اہم بات، بچے کو کھانے پر شرمندہ یا دوسرے بچوں سے compare نہ کریں — ہر بچے کی appetite اور پسند مختلف ہو سکتی ہے۔ ہمارا کام یہ ہے کہ اسے مناسب اور متوازن غذائیں بار بار پیش کریں اور صحت مند eating habits بنانے میں اس کی مدد کریں۔

آخر میں

بچے کا یہ کہنا کہ "مجھے یہ نہیں کھانا" ہمیشہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ بچہ کھانا نہیں کھاتا — کبھی مسئلہ ہماری feeding habits میں بھی ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ بچوں کو شروع سے گھر کا سادہ کھانا، سبزیاں، پھل، دالیں، انڈے، دہی اور دوسری غذائیت سے بھرپور غذائیں کھانے کی عادت ہو۔ پیزا، برگر اور دوسری پسندیدہ چیزیں کبھی کبھار کھائی جا سکتی ہیں، لیکن بچے کی پوری خوراک انہی چیزوں پر مشتمل نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کی اچھی صحت صرف آج کا کھانا نہیں، بلکہ بچپن سے بننے والی اچھی عادات کا نتیجہ بھی ہے۔